29 جولائی 2026 - 03:17
یمن کا سعودی تیل بردار جہاز پر میزائل حملے کا اعلان

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے سعودی تیل بردار جہاز کو میزائل حملوں کی خبر دی اور زور دے کر کہا کہ یمن کے ان جہازوں پر حملے جاری رہیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات اعلان کیا کہ اس ملک کی مسلح افواج نے نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے تیل بردار جہاز "این سی سی غزال" کو نشانہ بنایا۔

سریع نے زور دے کر کہا کہ یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے، یمن کی اعلان کردہ بحری جہاز رانی کی پابندی کی خلاف ورزی اور یمنی فوج کی جانب سے اس سعودی جہاز کو دی گئی وارننگز کے نظرانداز کئے جانے پرکیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن کئی بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ انجام دیا گیا اور یمنی حملوں کے بعد یہ جہاز پیچھے ہٹنے اور واپس جانے پر مجبور ہو گیا۔

مسلح افواج کے ترجمان نے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" اور "ہر سطح پر جنگ میں شدت کے بدلے ہر اسی سطح پر شدت" کے فارمولے کے تحت سعودی جہازوں کی آمدورفت پر پابندی کا نفاذ جاری رکھنے پر زور دیا۔

یمن نے سعودی عرب کو بارہا خبردار کیا تھا کہ وہ یمن کی 10 سالہ ظالمانہ اور وحشیانہ ناکہ بندی ختم کر دے، لیکن سعودیوں نے کان نہ دھرا، اور صنعاء ایئرپورٹ پر حملہ کرکے جنگ بندی بھی توڑ دی، چنانچہ  یمنی مسلح افواج نے ناکہ بندی توڑنے کی کارروائیاں شروع کر دیں جن میں آرامکو کمپنی پر تباہ کن میزائل حملے بھی شامل تھے جس کی وجہ سے اس کی تیل کی پیداوار 50 فیصد تک گھٹ گئی۔

ادھر یمنی وزارت دفاع کے ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے سعودی دفاعی نظام یمنی ڈرونز کو روکنے میں ناکام رہا ہے، اور ان ڈرونز نے کامیابی کے ساتھ اپنے مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی وزارت دفاع اور خارجہ کے ان ڈرونز کو روکنے کے بارے میں بیانات، اس ملک کے دفاعی نظام کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔

اس ذریعے نے یہ بھی کہا کہ یمن نے کشیدگی میں کمی کے مرحلے کے دوران سعودی دشمن کی خلاف ورزیوں کے خلاف برسوں صبر کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کو یمن کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرنا چاہئے اور کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج کو قبول کرنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha